Bani Israel – Part 48

بنی اسرائیل پارٹ 48

پچھلی آیت میں نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا ذکر ایمان سے پہلے آیا۔

   یہ دونوں کام معاشرے میں ہونگے تبھی تو ایمان جنم لے گا۔ یہ دونوں کام ایک ساتھ کرنا ضروری ہیں۔ ورنہ یہ بلکل ایسا ہے جیسے نیچے سے ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی بھرتے جانا۔۔۔۔۔ یعنی نیکی کیئے جاؤ اور برائی اسے ضائع کرتی جائے۔۔۔۔

بنی اسرائیل نے یہی دو کام ہی تو چھوڑ دئے تھے۔ اور جب اسی کام کے لئے کوئی نبی آتا تھا تو اسے قتل کر دیتے تھے۔ انہیں مذھبی روک ٹوک زہر لگنے لگی تھی (غورکریں تو آج کے بہت سے مسلمانوں کا بھی اب یہی حال ہوگیا ہے۔ کیا ہم یہود کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں؟)۔ کیونکہ وہ اللہ کی عزیز قوم کا لقب پا کر بلکل بے پرواہ ہو گئے تھے اپنے اعمال سے۔۔۔ وہ بھول گئے کہ ان کا حساب زیادہ سخت ہوگا۔

ذرا غور کریں۔ کیا یہی حال آج ہم مسلمانوں کا نہیں؟؟؟

جاری ہے۔۔۔۔۔

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu