Bani Israel – Part 3

data-full-width-responsive="true">

3

اب بنی اسرائیل کی فریاد سن لی گئی، جلیل القدر نبی موسیٰ علیہ السلام فرعون کی تباہی بن کر آئے۔

آزادی کے بعد یہودی اب میدانِ تیاہ پہنچے تاکہ اپنے وطن فلسطین واپس جائیں جہاں اسوقت دوسری جنگجو قوم آباد تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیلیوں سے فتح کا وعدہ کیا، اور شرط محض وہی رکھی، یعنی اللہ کی فرمانبرداری۔ مگر وہ اللہ کا پیغام بھول گئے اور پھر سے انتہا درجے کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ جس کی سزا انہیں یہ ملی کہ وہ 40 سال تک اُسی میدان میں گم رہے اور انہیں باھر جانے کا راستہ کہیں سے نہ ملا۔ اب وہ پھر پچھتائے اور اللہ سے معافی مانگی۔ اس بار اللہ نے یشعٰ بن نون علیہ السلام (جو کہ حضرت موسی علیہ السلام کے اسٹوڈنٹ بھی تھے) کو بنی اسرائیلیوں پر نبی بنا کر بھیجا۔ جن کی سربراہی میں بنی اسرائیلیوں نے اللہ کے حکم سے فلسطین آزاد کیا۔

اب آگے آنے والا وقت بنی اسرائیلیوں کی تاریخ کا سب سے سنہری دور تھا جو کہ “دی گولڈن ایرا آف جیوز” بھی کہلاتا ہے، شروع ہوا۔ اس کی سب سے بڑی مثال داوءد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی کِنگڈم (بادشاہت) ہے، جس سے بنی اسرائیلیوں نے دنیا میں راج کیا اور جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔

data-full-width-responsive="true">

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu

data-full-width-responsive="true"> data-full-width-responsive="true">