Qasas ul Quran – Hazrat Yusuf (Part 10)

حضرت یوسف علیہ السلام ۔پارٹ 10

 

کئی روایات کے مطابق قید خانے میں ہی یوسف علیہ السلام نبوت سے نوازے گئے۔ کیونکہ وہیں سے آپ نے دعوت حق شروع کی۔ خیر اب ان کے ساتھ دو نوجوان قیدی بھی داخل ہوئے تھے جن میں سے ایک شاہی ساقی اور دوسرا شاہی باورچی تھا۔ ایک روز دونوں ان کے پاس حاضر ہوئے کہ آپ ہمیں نیک معلوم ہوتے ہیں، شاید کہ آپ ہماری مدد کر پائیں۔ ساقی نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑتا ہوں۔ اور باورچی نے کہا میرا خواب یہ ہیکہ میرے سر سے پرندے روٹیاں نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یوسف علیہ السلام قید ضرور تھے مگر اپنا مقصدِ حیات نہ بھولے تھے۔ اسی لئے انہوں نے ان دونوں کے خواب سنتے ہی تعبیر بتانے کے بجائے سب سے پہلے انہیں دین کی دعوت دی۔ جس میں سب سے پہلے انہوں نے اپنے عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کی ملت اختیار نہیں کی جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے منکر ہیں۔ میں نے اپنے باپ داداؤں یعنی ابراہیم علیہ السلام، اور اسحق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کی ملت کی پیروی کی ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم پر اور لوگوں پر کیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔

سورہ یوسف : 38

یوسف علیہ السلام نے اللہ کی توحید کا مزید درس دیا اور پھر اس بات کا شکر بجا لائے کہ اللہ ہی نے انہیں خوابوں کی تعبیر سکھائی۔

اب وہ ساقی سے بولے کہ تم آزاد ہوگے اور بادشاہ کو شراب پلاؤ گے۔ اور باورچی سے بولے کہ تم سولی پر لٹکا دئے جاؤ گے اور پرندے تمہارے سر کو نوچ کھائینگے۔ اور یہ معاملات اب ہو چکے۔۔۔

نوٹ: ان دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کے کھانے پینے میں زہر ملایا تھا۔ جب تحقیقات ختم ہوئیں تو باورچی پر جرم ثابت ہوا اور ساقی بری کر دیا گیا۔

جاری ہے۔۔۔

Click Here For Qasas ul Quran All Parts

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu