Qasas ul Quran – Hazrat Yusuf (Part 15)

data-full-width-responsive="true">

حضرت یوسف علیہ السلام ۔ پارٹ 15

 

حضرت یوسف علیہ السلام کی بتائی ہوئی پیشن گوئی من و عن سچ ثابت ہوئی۔ مصر میں 7 سال ایسے آئے کہ خوب بارشیں ہوئیں۔ آپ نے وہ طریقے، جو آپ علیہ السلام کو اللہ نے سکھائی تھیں ان کے ذریعے گندم کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زیر زمین ایسے گودام بنائے گئے جہاں گندم کو ان کے خوشوں سمیت ڈال کے رکھا جاتا، اور گودام اس طرح بنائے ہوئے تھے کہ وہاں مٹی، پانی، یا کسی بھی چیز کی رسائی ممکن نہ تھی۔

اب مصر پر قحط کا سال شروع ہوگیا۔ دریائے نیل سوکھ گیا۔ اور نہ صرف مصر بلکہ ہر اس جگہ جہاں سے دریائے نیل گزرتا تھا وہاں کھانے پینے کی قحط پڑنے لگی۔ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے دانشمندی سے ذخیرہ اندوزی کی تھی، اب وہ مصر کے لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہونے لگا۔

دوسری طرف کنعان میں جہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے والد اور خاندان تھے، وہاں پہ بھی قحط طاری ہونے لگا۔ ان کے بھائیوں نےقافلے والوں سے سنا کہ مصر میں حکمران نے چونکہ دانشمندی سے کام لیا تھا، اس لئے وہاں گندم دستیاب ہے۔ اور نہ صرف اپنے ملک بلکہ آس پاس کے ضرورت مندوں کی بھی مدد کی جا رہی ہے۔
وہ سب بھائی یعقوب علیہ السلام کے پاس جمع ہوئے اور ان سے مشورہ مانگا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں کہا کہ تم سب مصر جاؤ اور وہاں سے غلہ لانے کی کوشش کرو۔ آگے تمہارا اللہ حامی اور ناصر۔

یہ قافلہ روانہ ہوا۔ اور کئی مہینوں کے سفر کے بعد مصر جا پہنچا۔ جب وہ دربار میں حاضر ہوئے تو یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔ اور کیوں نہ پہچانتے، رنگ ڈھنگ، بول چال، لہجہ، نقشہ سب جانے پہچانے تھے اور ویسے بھی انسان کی یہ خوبی ہیکہ وہ اپنے محسن کو بھولے نہ بھولے اپنے مجرم کو نہیں بھولتا۔ وہ تو پھر ان کے بھائی بھی تھے۔

لیکن کوئی یوسف علیہ السلام کو نہیں پہچان پایا ۔ کیونکہ کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ موت سے بچ بھی گیا اور آج ایک عالیشان بادشاہ بھی بن گیا ۔

لیکن اللہ پر توکل کرنے والوں کے ساتھ یہ خاص معاملات بہت عام ہیں۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

 

 

 

Click Here For Qasas ul Quran All Parts

data-full-width-responsive="true">

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu

data-full-width-responsive="true"> data-full-width-responsive="true">