Qasas ul Quran – Hazrat Yusuf (Part 7)

data-full-width-responsive="true">

حضرت یوسف علیہ السلام ۔ پارٹ 7

 

پچھلی قسط میں ہم نے جانا کہ قرآن کریم کے مطابق، یوسف علیہ السلام نے اللہ کا برہان دیکھا اس عورت نے ان کے ساتھ برائی کا ارادہ کرنا چاہا تو۔۔۔۔

اب وہ برہانِ رب کیا تھا؟ اس پر کئی روایات ہیں۔ مثلاً یعقوب علیہ السلام کی صورت نظر آنا۔۔۔ اور ان کا اشارے سے منع کرنا۔۔۔ یا عزیز کی بیوی کا اپنے بت پر پردہ ڈالنا۔۔ جس سے یوسف علیہ السلام کا نصیحت پکڑنا۔۔ یا پھر فرشتے کا ظہور اور یوسف علیہ السلام کو روکنا۔۔۔ لیکن ان تمام سے بہتر تفسیر خود قرآن کی خوبصورت اور منظم پن سے ظاہر ہے۔ یعنی۔۔۔

1

ایمان بااللہ کا حقیقی تصور۔۔۔

2

ان کا یہ کہنا کہ عزیز ان کا مربی ہے۔ اور وہ اس کے ساتھ یہ خیانت نہیں کر سکتے۔۔۔

اب برہان دیکھنے کے بعد یوسف علیہ السلام فوراً دروازے کی طرف بھاگے۔ لیکن عزیز کی بیوی قطعاً باز نہ آئی۔ اور ان کے پیچھے گئی جس سے یوسف علیہ السلام کا کرتا پھٹ گیا ۔ اب دروازہ کسی طرح کھل گیا اور سامنے عزیز اور اس کی بیوی کا چچا زاد بھائی کھڑے تھے۔

عورت ابھی بھی اپنے جنون میں تھی اسی لئے اصل حقیقت چھپانے کے لئے بھڑک گئی کہ اس شخص کی سزا قید خانہ یا دردناک عذاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہیکہ جو تیرے اہل کے ساتھ برا ارادہ رکھتا ہو؟

یوسف علیہ السلام نے عورت کے اس فریب کو خود پر سراسر بہتان کہا۔ اور اصل حقیقت بتائی۔ عورت کا چچا زاد بہت ہوشیار تھا۔ کہنے لگا، یوسف کا کرتا اگر سامنے سے چاک ہے تو عورت راست باز اور اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف سچا۔۔۔۔

اس تجویز سے عورت کا جھوٹ واضح ہو گیا۔۔۔ مگر عزیز نے اپنی عزت کی خاطر یوسف سے کہا کہ بیشک تم ہی سچے ہو مگر اس معاملے کو یہیں پہ ختم کر دو۔ پھر بیوی سے کہا یہ سب تیرا ہی مکر ہے اور تم عورتوں کا مکر بہت برا ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنے حرکتِ بد کی معافی مانگو۔۔۔۔

سورہ یوسف ۔ 29 ۔ 25

جاری ہے۔۔۔۔ 

 

 

Click Here For Qasas ul Quran All Parts

data-full-width-responsive="true">

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu

data-full-width-responsive="true"> data-full-width-responsive="true">