Bani Israel – Part 7

بنی اسرائیل پارٹ 7

حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ساتھ (مریم علیہ السلام کے خالو) زکریا علیہ السلام اور (خالہ زاد) یحیٰ علیہ السلام کو بھی یہود نے بری طرح قتل کر دیا تھا۔ بظاہر یہود صحیح ثابت ہوئے تھے کہ اگر عیسٰی علیہ السلام وہی مسیح ہوتے تو وہ یوں نہ قتل ہو کر مرتے، مگر 600 سال بعد جب قرآن نازل ہوا تو اس میں یہ راز کھلا کہ عیسٰی علیہ السلام مرے نہیں، اوپر اٹھا لئے گئے ہیں اور وہ واپس آئینگے۔ یہ آیت یہود اور نصاری دونوں کے لئے ناقابلِ یقین تھی۔

ہر نبی نے اپنی امت کو اپنے بعد آنے والے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور دجال کے بارے میں آگاہ کر رکھا تھا۔ عیسٰی علیہ السلام کے بعد رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باری تھی۔ جن کا انتظار یہود اور نصاری دونوں کو بہت تھا۔

مگر بنی اسرائیلیوں کی انتہا درجے کی نافرمانیوں کے بعد ان سے ‘بہترین امت‘ ہونے کا لقب چھین لیا گیا۔ اور اب اللہ نے مسلمانوں کو امامت عطا کر دی۔

انبیاء کی اولاد، بنی اسرائیلیوں کے لئے یہ ذلت سب سے بڑی ذلت تھی کہ آخری نبی اور امامت کا اعزاز ان پڑھ عربوں کو دے دیا گیا جو خود یہودیوں سے علم لیتے تھے۔

اب یہود اور نصاری نے طے کر لیا کہ ان کو کیا کرنا ہے۔

Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu