My Fiance Forced Me to Tell Him About My Past




I am betrothed to a young Muslim man who loves me very much, and insha Allah we will get married soon. My fiance once insisted too much that I tell him all my past relationships with men…etc. I told him about two relationships with two young men when I was just 18 years old, but I just revealed some forbidden things that happened, not all details because I did repent to Allah from all such forbidden things and decided to start a new life. But my fiance phoned that young man via SMS (I don’t know how he got his number) and that old friend told him the whole story. Now my fiancé is willing to fulfill our marriage only because things are already arranged (only five days remain) and all family have been told so he wants to go on just to save his image before his family; afterwards he will divorce me after a while. Should I now tell him all details of my past?


Praise be to Allaah.

With regard to the past from which you have repented to Allah, may He be exalted, the fiancé or husband has no right to ask about it. And it is not prescribed for anyone who has fallen into sin to tell anyone else about it when Allah has concealed him, and he should not expose himself, Allah forbid.

If the fiancé or husband insists on asking, you do not have to tell him about what you did before you knew him. Hence you made a serious mistake when you told your fiancé some of what you had done. Rather he should only look at you as you are now, and if that suits him he should go ahead and marry you, otherwise he should leave you for someone else.

Now what has happened has happened, and you do not have the right to tell him any more than you have already told him or what he has found out himself. You can deny anything that others might tell him and that could damage your image and reputation.

But if he says he is going to divorce you after that, then this matter is in the hand of Allah and intentions may change. “You (the one who divorces his wife) know not, it may be that Allah will afterward bring some new thing to pass” [al-Talaaq 65:1]. So ask Allah to accept your repentance and to conceal your errors.

And Allah knows best.


سوال::   میری منگنی جس لڑکے سے ہوئی اسے مجھ سے بہت محبت ہے، اور انشاء اللہ بہت جلد ہماری شادی بھی ہو جائیگی۔ ایک دن مجھے میرے منگیتر نے بہت مجبور کیا کہ میں اسے اپنے ماضی کے بارے میں بتاؤں کہ اگر میرے کسی لڑکے سے تعلقات رہے۔ میں نے اسے بتایا کہ جب میں 18 سال کی تھی تو ایک لڑکے سے میری دوستی تھی۔ لیکن میں نے اسے اپنے تعلقات کی گہرائی کے بارے میں نہیں بتایا۔ کیونکہ مجھ سے جو غلطیاں ہوئی تھیں میں نے ان پر اللہ سے معافی مانگ کر آئندہ اس راستے پر نہ چلنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن میرے منگیتر نے پتہ نہیں کہاں سے اس لڑکے کا نمبر نکال لیا اور اسے فون کیا اور میرے اس سے تعلق کے بارے میں پوچھا۔ اور اس لڑکے نے میرے منگیتر کو تفصیل سے میرے ماضی کے تعلقات کے بارے میں بتا دیا۔ اب میرا منگیتر یہ شادی صرف خاندان کی عزت کے نبھانے کے لئے کر رہا ہے، اور اس نے مجھے صاف کہہ دیا ہیکہ وہ نکاح کے کچھ ہی عرصے بعد مجھے طلاق دے دیگا۔

براہ کرم مجھے بتائیں میں کیا کروں؟ کیا میں اسے اپنے منہ سے اپنے ماضی کے بارے میں سب کچھ بتا دوں؟

جواب:: الحمد للہ

آپ کا ماضی جیسا بھی تھا، اس کے لئے آپ اللہ سے توبہ کر چکی تھیں۔ آپ کے منگیتر یا شوہر، وہ جو کوئی بھی ہیں، انہیں ہرگز نہیں پوچھنا چاہئے تھا۔ اور نہ ہی کسی کو چاہئے کہ اس سے اگر کوئی گناہ یا غلطی ہو گئی ہو تو وہ خود سب کو بتائے۔ کیونکہ اللہ اس پر پردہ ڈالے رکھتا ہے۔ اور اسے اپنے آپ کو خود ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔

جب آپ کے منگیتر یا شوہر نے آپ کو مجبورکیا تھا اپنے ماضی کے بارے میں بتانے کے لئے، آپ کو پہلی ہی باری میں اس بارے میں نہیں بتانا چاہئے تھا۔ آپ نے اپنے منگیتر کو اس بارے میں بتا کر بہت بڑی غلطی کر ڈالی۔ آپ کے منگیتر کو آپ کے ماضی کی بجائے آپ کے حال کا دیکھنا چاہئے کہ ابھی آپ کیسی ہیں۔ اور اگر آپ کا حال بے داغ اور ایماندار ہے تو اسے چاہئے کہ آپ سے شادی کرے، ورنہ آپ کو چھوڑ دے تاکہ آپ کسی اور سے شادی کر سکیں۔

اب جو ہو چکا وہ ہو چکا۔ آپ کو کوئی ضرورت نہیں مزید اس بارے میں اسے کچھ بتانے کی۔ آپ ہر اس بات کو جھٹلا سکتی ہیں جو اسے دوسروں سے پتہ چلے تاکہ آپ اپنی عزت اور تشخص کو نہ کھو دیں۔

اگر وہ آپ سے کہتا ہیکہ وہ آپ کو شادی کے بعد طلاق دے دیگا۔ تب یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ وہ نیتیں بدل بھی سکتا ہے۔

‘تم (جو اپنی بیویوں کو طلاق دیتے ہو) نہیں جانتے، کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔‘ (سورہ طلاق – 1)

چنانچہ آپ اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ آپ کی توبہ قبول کرے اور آپ کے عیب پر پردہ ڈالے رکھے۔

واللہ عالم۔



Source : IslamQA
Translated and Edited By Content Editor of IslamicGathering


Check Also

Hayrat Angaaz Report in Urdu

data-full-width-responsive="true"> data-full-width-responsive="true">